کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اورلوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بدھ کے روز وزیرِاعظم نریندر مودی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تازہ ٹیرف دھمکی پر خاموشی اختیار کرنے پر شدید تنقید کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں راہول گاندھی نے لکھا کہ“ بھارت کو سمجھنا چاہیے“وزیر اعظم مودی صدر ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف اس لیے مؤقف نہیں اپناتے کیونکہ امریکا میں اڈانی کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔“
راہل گاندھی نے لکھا کہ ”بھارت کو سمجھنا چاہیے، مودی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں“ وزیرِ اعظم مودی اس لیے ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں کا مقابلہ نہیں کر پاتے کیونکہ اڈانی گروپ کے خلاف امریکا میں تحقیقات جاری ہیں۔ ایک دھمکی یہ ہے کہ مودی، اڈانی اور روسی تیل کے معاہدوں کے درمیان مالی روابط کو بے نقاب کیا جائے گا۔ “
راہول گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ”صدر ٹرمپ مودی، اڈانی اور روسی تیل کے معاہدوں کے درمیان مالی روابط کو بے نقاب کر سکتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مودی خاموش ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کی خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے مفادات کا دفاع کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب راہل گاندھی نے امریکی ٹریفک دھمکیوں کو اڈانی گروپ کے معاملے سے جوڑا ہے، حالانکہ دونوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
اڈانی گروپ کے عہدیدار امریکی حکام کے سامنے ایک کرمنل کیس کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارت میں سولر توانائی کے معاہدوں کو حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی طریقوں سے رشوت دی تھی۔
امریکی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ امریکی سرمایہ کاروں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اڈانی گروپ نے رشوت دے کر یہ معاہدے حاصل کیے تھے، اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
راہل گاندھی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران انہوں نے اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیرِ اعظم مودی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی پیشکش کے امریکی دعووں پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اور وزیرِ اعظم مودی دونوں نے ایوان میں کہا تھا کہ کسی بھی غیر ملکی رہنما نے بھارت سے اس تنازعہ کو روکنے کی درخواست نہیں کی۔
حزبِ اختلاف کی جماعتیں وزیرِاعظم مودی اور بی جے پی حکومت پر تنقید کرتی رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت سے جب صدر ٹرمپ نے بھارت پرروس سے تیل خریدنے پر25 فیصد ٹیرف اورجرمانہ عائد کرنے کی دھمکی دی۔
تنقید اُس وقت مزید بڑھی جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بھارت بڑی مقدارمیں روسی تیل خرید رہا ہے اورپھراس میں سے بڑی مقدارکو کھلے بازارمیں بیچ کرمنافع کما رہا ہے۔