نیتن یاہو کا غزہ جنگ میں توسیع پر اصرار، اسرائیلی فوج، انٹیلیجنس سربراہوں نے مخالفت کردی – World

اسرائیلی وزیراعطم بنجمن نیتن یاہو اور فوجی سربراہ ایال زامیرکے درمیان غزہ میں فوجی کارروائیوں کو مزید بڑھانے کی تجویز پراختلافات شدت اختیار کرگئے، فوجی سربراہ ایال زامیر نے خبردار کیا کہ اگر غزہ کے باقی حصوں کو مکمل طور پر قابوکرلیا گیا تو فوجیوں کو اس علاقے میں پھنس جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے، جو کہ دو دہائیوں پہلے اسرائیل نے خالی کردیا تھا، اور اس سے یرغمالیوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

مغربی زرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو اور زامیر اور انٹیلیجنس سربراہوں کے درمیان منگل کو ہونے والی تین گھنٹے طویل ملاقات میں فوجی سربراہ نے وزیرِ اعظم کو خبردار کیا کہ غزہ کے باقی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش سے اسرائیلی فوج اس علاقے میں پھنس سکتی ہے، جہاں سے اس نے دو دہائیاں قبل انخلاء کیا تھا۔

اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام سے یرغمالیوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی شہادتوں پر اسرائیلی فوج میں پھوٹ، جنرلز آپس میں لڑ پڑے

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کے 75 فیصد حصے پر قابض ہے، جو کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سے زیرِ کنٹرول ہے۔ غزہ میں جاری جنگ نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور قحط کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مزید فوجی کارروائیوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت حماس پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ جنگی کارروائیوں میں شہریوں کو اپنی چھاؤں بنا کر ان کا تحفظ حاصل کر رہی ہے۔

’اسرائیل کی مذاکراتی حکمت عملی ناکام ہوگئی‘، اسرائیلی ماہر کی حکومت کو وارننگ

وزیرِ دفاع اسرائیل کتز نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی سربراہ کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، مگر فوج حکومت کے فیصلوں پر عمل کرے گی۔

اس کے علاوہ، غزہ میں یرغمالیوں کی حالت پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی گروہ حماس نے حالیہ دنوں میں یرغمالیوں کی ویڈیوز جاری کی ہیں، جس سے عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

’غزہ جنگ بند کرائیں‘: موساد کے سابق سربراہ سمیت 600 سے زائد اسرائیلی سیکیورٹی عہدیداروں کا ٹرمپ کو خط

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 61,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر شہری ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، غزہ میں مزید فوجی کارروائیوں کی تیاری جاری ہے، تاہم وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے تمام مقاصد کو حاصل کرنے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

دوسری جانب، عالمی برادری جنگ بندی کی اپیل کر رہی ہے تاکہ انسانی بحران میں کمی لائی جا سکے اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقالات ذات صلة

الأكثر شهرة