
پاکستان کے 78 ویں جشن آزادی پر لاہور کے تاریخی واہگہ بارڈر کو آرائش و تزئین اور توسیع کے بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا، یہ وہی مقام ہے جہاں 1947 کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے ہجرت کر کے اس سرزمین پر پہنچے تھے جبکہ واہگہ بارڈر کی توسیع کے منصوبے کا آغاز 2024 میں کیا گیا تھا، جس کے تحت نہ صرف سرحدی تنصیبات کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا بلکہ تاریخی اور ثقافتی پہلوؤں کو بھی نمایاں کرنے کا اہتمام کیا گیا۔
پاکستان رینجرز پنجاب نے واہگہ بارڈرکی توسیع اور آرائش وتزئین کی ڈاکومنٹری بھی جاری کردی ہے۔
پاکستان رینجرز پنجاب ایک پیشہ ور فورس ہے جو بھارت سے متصل پاکستانی سرحد کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ملک کے داخلی محاذوں پر بھی خدمات انجام دیتی ہے، اس کے فرائض میں پاک-بھارت سرحد پر مشترکہ چیک پوسٹس کے انتظامی امور، دفاعِ وطن یقینی بنانا اور پرچم کشائی اور پرچم اتارنے کی تقریبات کا انعقاد شامل ہے، یہ روایت 11 اکتوبر 1947 سے جاری ہے۔
واہگہ جائنٹ چیک پوسٹ کی تعمیرِ نو کے دوران گرینڈ ایرینا میں ناظرین کے لیے نشستوں کی گنجائش 7 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کر دی گئی ہے، یہاں ایک تھیم پارک تعمیر کیا گیا ہے جس میں تقسیم ہند کے دوران مہاجرین کی نقل مکانی کی عکاسی کے لیے ریلوے اسٹیشن کا ماڈل بنایا گیا ہے، اس میں ٹرین اور ہجرت کرنے والے افراد کی مشکلات اور قربانیوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جب کہ ٹینک، ہیلی کاپٹر اور دیگر اسلحے کی نمائش بھی موجود ہے۔
پنجاب رینجرز کے شہدا کی یاد میں ایک یادگار قائم کی گئی ہے اور بڑی اسکرینوں پر پاکستان کی تاریخ اور مناظر دکھائے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے نیا فوڈ کورٹ، نماز گاہ اور وسیع پارکنگ ایریا بھی بنایا گیا ہے۔
واہگہ بارڈر میں قومی پرچم کے پول کی بلندی 115 میٹر سے بڑھا کر 139 میٹر کر دی گئی ہے، جس سے یہ جنوبی ایشیا کا بلند ترین اور ایشیا کا ساتواں بلند ترین پرچم بن گیا ہے۔
اسی طرح گرینڈ ایرینا کا داخلی دروازہ باب آزادی لاہور قلعہ کے عالمگیری دروازے کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، جو اسلامی فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال اور دنیا کا سب سے بڑا دروازہ ہے، واہگہ جائنٹ چیک پوسٹ نہ صرف دفاع وطن پر مامور جوانوں کے لیے بلکہ پاکستانی عوام کے لیے بھی ایک جذباتی اہمیت رکھتی ہے۔