
مقبوضہ کشمیر کے علاقے کلگام اور کشتواڑ میں شکست کے بعد اوڑی میں بھی بھارتی فورسز اور مقامی کشمیری عوام میں جھڑپیں جاری ہیں جہاں عوام نے سرچ آپریشن کی آڑ میں گرفتاریوں اور تشدد پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مزاحمت کا اعلان کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق کلگام اور کشتواڑہ میں ناکامی کے بعد اوڑی کے علاقے میں بھارت نے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ سرچ آپریشن کی آڑ میں گرفتاریوں اور تشدد پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوام نے مزاحمت کا اعلان کردیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقامی عوام نے سرچ آپریشن اور گھر گھر تلاشی کو کھلے عام مسترد کردیا ہے اور مقامی لوگوں سے جھڑپوں میں مزید 3 بھارتی فوجی زخمی ہوئے اور بھارتی میڈیا نے آج ایک مزید فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں چار بھارتی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں قابض فورسز کا مورال دن بدن گر رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام نے سوال اٹھایا کہ 10 لاکھ فوج تعینات ہونے کے باوجود قصور وار مقامی عوام کیوں ہیں، حالانکہ یہ مزید فوجی یونٹوں کی تعیناتی اور غیر قانونی قبضے کو مضبوط کرنے کی سازش ہے۔
کشمیری عوام نے کہا کہ سرچ آپریشن دہشت گردی نہیں بلکہ آواز دبانے کا بہانہ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کا مقامی آبادی پر اجتماعی سزا کا سلسلہ عوام میں مزید نفرت اور مزاحمت کو تقویت دے گا، بھارتی فوج مودی حکومت کے انتہا پسند ایجنڈے میں پھنس گئی۔
سیاسی مبصرین نے کہا کہ قابض فوج کی کارروائیاں دہشت گردی کے بہانے عوام کی آواز دبانے کی کوشش ہے لیکن مقامی مزاحمت نے قابض فوج کے مورال کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔