
بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کہا ہے کہ امیرترین بھارتی صنعت کار مکیش امبانی کے چھوٹے انیل امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ کے خلاف فراڈ کے الزامات پر کریمنل کیس کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ادارے نے کہا ہے کہ بھارت کے سب سے بڑے بینک کی جانب سے فراڈ کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد انیل امبانی اور ان کی کمپنی کے خلاف کریمنل کیس کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے انیل امبانی اور ریلائنس کمیونیکیشنز پر فراڈ کے ذریعے 30 ارب بھارتی روپے (344 ملین ڈالر) کا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
بھارت کے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے بیان میں کہا کہ ممبئی میں واقع انیل امبانی کے گھر اور ریلائنس کمیونیکیشنز کے دفاتر پر چھاپہ مارا گیا اور تلاشی لی گئی ہے اور کمپنی اس وقت دیوالیہ ہوگئی ہے۔
ایجنسی نے بتایا کہ انیل امبانی اور اس کی کمپنی نے بینک کے فنڈز کا غلط استعمال کیا اور فنڈ طے شدہ معاہدے کے برخلاف دوسری جگہ استعمال کیا۔
امبانی اور ریلائنس کمیونیکیشنز کے ترجمان نے اس حوالے سے رابطے کے باوجود ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ انڈیا کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی ریلائنس گروپ سے جڑے 35 مقامات کی تلاشی لی تھی، سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ چھاپے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور سرکاری فنڈ کی منتقلی سے متعلق تفتیش کا حصہ تھے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ریلائنس گروپ نے درخواست کے باوجود بیان نہیں دیا لیکن گروپ کے ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔