پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے بغیر ملک قدرتی آفات سے محفوظ نہیں ہوسکتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے قلیل، درمیانی اور طویل المدتی پالیسیاں وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کئے بغیر ملک قدرتی آفات سے محفوظ نہیں ہوسکتا۔

وزیراعظم نے نارووال میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے، وفاق، صوبے اور ادارے مل کر ہی اس چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیشگی اطلاعات کے نظام کی وجہ سے نقصان کم سے کم ہوا ہے، اگر ہم ابھی سے ڈیموں اور چھوٹے ذخائر کی تعمیر پر توجہ دیں تو مستقبل کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر اور سیالکوٹ ریجن میں غیر معمولی بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی آئی ہے، خانکی اور قادرآباد میں 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ موجود ہے جبکہ ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ نارووال سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، غیر معمولی بارشوں اور بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے سے صورتحال بگڑی، تاہم پیشگی اطلاعات کے نظام کی وجہ سے لوگوں کا محفوظ انخلا ممکن ہوا۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی مدد کے لئے تمام ادارے متحرک ہیں، ایک ہزار فیلڈ کلینک قائم کئے گئے ہیں جبکہ مویشیوں کے لئے چارہ اور پانی کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے نارووال کو آفت زدہ قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف اور ریسکیو کی کوششیں تیز کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے متاثرین کی مدد کرنے والے تمام اداروں، افواج پاکستان اور سول انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ تباہ شدہ فصلوں اور گھروں کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

مقالات ذات صلة

الأكثر شهرة