
ہولی فیملی اسپتال میں 11 سال کائنات کی موت پر ہونے والی فیکٹ فائنڈنگ کے حوالے سے اسپتال ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ میں دو سینئر ڈاکٹروں کی غلفت اور لاپروائی کی وجہ سے علاج میں تاخیر ثابت کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال کی پیڈز سرجری میں ڈاکٹر نے غلط تشخیص کرکے 11 سالہ کائنات کا اپینڈکس آپریشن کردیا تھا، کائنات کو پیٹ میں شدید درد تھا اور وہ چیختی چلاتی دم توڑ گئی تھیں۔
علاج میں غلفت اور لاپروائی کے ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے سربمہر رپورٹ سیکریٹری ہیلتھ کو بھجو ادی گئی۔
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ذمہ دار قرار پانے والے دو سینئر ڈاکٹروں کے نام سیکیورٹی وجوہات پر ظاہر نہیں کرسکتے تاہم افسوس ناک واقعے پر وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر نے الگ سے تین رکنی اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر جہانگیر سرور پرنسپل راولپنڈی میڈیکل کالج، ڈاکٹر جواد ظہیر ہیڈ آف انستھیزیا ڈپارٹمنٹ اور ڈاکٹر ندیم ملک اے ایم ایس ہولی فیملی اسپتال پر مشتمل ہے۔
کمیٹی تفتیش کے بعد 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی اور ذمہ داری کا تعین اور کارروائی کے لیے تجاویز دے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ 15 اگست کو اسپتال کے تفصیلی دورے کے بعد اپنی رپورٹ میں اسپتال میں علاج معالجے کے نظام پر متعدد سوالات اٹھانے کے علاوہ صفائی، بیڈ گورننس، بدانتظامی، اور مریضوں کو ادویات نہ ملنے کی نشان دہی کر چکا ہے اور مذکورہ رپورٹ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو بھجوائی گئی تھی۔