
پاکستان میں اسپیکٹرم نیلامی میں مزید تاخیرکی صورت میں آئندہ دو سالوں میں 1.8 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ مختص شدہ اسپیکٹرم تقریباً ختم ہو چکا ہے ملک کے سب سے بڑے ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر “جاز” نے وزیراعظم شہباز شریف کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے۔
جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے اپنے خط میں بتایا کہ نیٹ ورک میں جام ہونے کی وجہ سے صارفین کو معیارکی کمی کا سامنا ہے اور اگر 2025 کی نیلامی میں مزید تاخیر ہوئی تو پاکستان کی معیشت کو 1.8 ارب ڈالر (یا 500 ارب روپے) کا نقصان ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر یہ تاخیر 2030 تک جاری رہی تو نقصان 4.3 ارب ڈالر (یا 1.2 کھرب روپے) تک پہنچ سکتا ہے۔ عامر ابراہیم نے وزیراعظم کو خبردارکیا کہ پاکستان کے “ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ اسپیکٹرم نیلامی میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موبائل ڈیٹا کا استعمال پچھلے دو سالوں میں 45 فیصد بڑھ چکا ہیاور اس کے ساتھ ہی اسمارٹ فونزکی تعداد بھی دگنا ہو چکی ہے، تاہم اس کے باوجود اسپیکٹرم کی مقدار 2021 کے بعد سے نہیں بڑھائی گئی۔
آئی ٹی کی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے حال ہی میں بیان دیا کہ 5G سپیکٹرم نیلامی میں تاخیر کی بنیادی وجہ پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نارکے انضمام پر جاری مقدمات اور غیر یقینی صورتحال ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر نے مزیدکہاکہ اگر فوری طور پر نیا اسپیکٹرم فراہم نہ کیاگیا تو نیٹ ورک پر مزید بوجھ بڑھے گا اور صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا ہو گا، جس سے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تکمیل خطرے میں پڑ جائے گی۔