فضائی سفر ایک سے دوسری جگہ پہنچنے کا محفوظ ترین ذریعہ ہے۔
روزانہ دنیا بھر میں ہزاروں طیارے سفر کرتے ہیں اور کسی حادثے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں 40 ہزار سے زائد ائیرپورٹس ہیں جن کا حجم مختلف ہے۔
کچھ کا رن وے بہت بڑا ہوتا ہے جبکہ کچھ کا بہت چھوٹا۔
دنیا کے چند ائیر پورٹس ایسے ہیں جہاں سے اڑان بھرنا یا اترنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ماہر پائلٹس ہی یہ کام کر پاتے ہیں۔
مگر دنیا کا ایک ائیرپورٹ ایسا ہے جسے ماہر ترین پائلٹ بھی لینڈنگ کے لیے سب سے مشکل قرار دیتے ہیں۔
یہ ائیرپورٹ نیپال میں موجود ہے اور اسے Lukla یا تینزنگ ہلیری ائیرپورٹ کہا جاتا ہے۔
اس ائیرپورٹ کا جغرافیائی مقام اور موسم اسے طیارے کی لینڈنگ کے لیے مشکل اور خطرناک ترین ائیرپورٹ بنانے والے عوامل ہیں۔
اس ائیر پورٹ کو ماؤنٹ ایورسٹ کا دروازہ مانا جاتا ہے اور دنیا کی بلند ترین چوٹی پر جانے کے لیے ہر سال سیکڑوں کوہ پیما یہاں پہنچتے ہیں۔
مگر پائلٹوں کے لیے ٹیک آف یا لینڈ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ انہیں بلند و بالا چوٹیوں کے درمیان زگ زیگ سفر کرنا پڑتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ 1800 فٹ کا مختصر رن وے اور ائیر پورٹ میں ناکافی سہولیات کے باعث بھی یہاں اترنا یا اڑان بھرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
رن وے اتنا مختصر ہے کہ اگر طیارے کی دوڑ ذرا زیادہ طویل ہو جائے تو وہ دوسری جانب گر سکتا ہے۔
پائلٹ کو رفتار اور بلندی کا خصوصی خیال رکھنا ہوتا ہے اور اس کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی جبکہ یہاں موسم بھی اچانک بدلتا ہے، یعنی اگر ایک منٹ پہلے سورج کی روشنی موجود تھی تو اچانک بادل چھانے سے ائیر پورٹ کا نظر آنا مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ ائیر پورٹ سطح سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے تو ہوا بھی ہلکی ہوتی ہے جس سے بھی طیارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور پائلٹوں کے لیے طیارے کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔