
اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان کا یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (USCP) جو 1971 سے عوام کو سستے داموں ضروری اشیاء فراہم کرتا رہا، نے تقریباً 55 سال کی خدمات کے بعد اپنے تمام آپریشنز مستقل طور پر بند کر دیے ہیں۔ یہ ادارہ ملک بھر میں اپنے اسٹورز کے ذریعے عام شہریوں کو اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں رعایتی نرخوں پر اشیاء خور ونوش مہیا کرتا تھا۔
یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بندش کے احکامات کی باضابطہ توثیق کر دی ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تمام سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ آج سے یوٹیلٹی سٹورز پر خرید و فروخت کا عمل روک دیا گیا ہے اور تمام کھانے پینے اور دیگر اشیاء کو خوردہ دکانوں سے مرکزی گوداموں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، کارپوریشن کا ای آر پی (انٹرپرائز ریسورس پلاننگ) سسٹم بھی آج سے مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
دریں اثناء، یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش اور ملازمین کے جاری احتجاج کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں بھی اٹھایا گیا جہاں اراکین نے اس بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی نے کمیٹی کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ کمیٹی کے سابقہ ہدایات کے باوجود کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ یوٹیلٹی سٹورز بند نہیں کیے جائیں گے۔
جکھرانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس بندش پر تشویش کا اظہار کیا اور پارٹی اراکین کو ہدایت کی کہ وہ یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین سے ملاقات کریں۔ اس کے جواب میں کئی اراکین نے ملازمین کے احتجاجی دھرنے کا دورہ کیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود یوٹیلٹی سٹورز کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ملازمین کے لیے بلکہ ان لاکھوں شہریوں کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے جو سستے داموں ضروری اشیاء کے لیے ان سٹورز پر انحصار کرتے تھے۔